بھٹکل:8/اگست(ایس او نیوز) شہر کے کوگتی علاقہ کے ناگ بنا مندر میں گوشت پھینکنے کے معاملے میں پولس نے شبہ کی بنیاد پر ایک آٹوڈرائیور کو پوچھ تاچھ کے بہانے بلا کراُس پر ظلم ڈھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے رکشا ڈرائیورس اسوسی ایشن کے ممبران نے پیر کی شام کو پولس تھانے کا گھیراؤ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔
آٹوڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ تین دن پہلےپولس نےکوگتی ناگ بنا مندر میں گوشت پھینکنے والے معاملے کے متعلق ماروکیری علاقہ کے مکین آٹوڈرائیور اُدئیے گونڈا کو ڈرا دھمکا کر واردات کوقبول کرنے پر دباؤ ڈالاہے، اس کے علاوہ من مانی طورپر پٹائی کی ہے، اور پولس نے اس پرظالمانہ رویہ اپنایا ہے۔ لیکن ایس آئی ریوتی نے ڈرائیوروں کے الزام کی تردید کرتے ہوئے لگائے گئے تمام الزامات سے انکار کیا، جس پر ڈرائیورمزید مشتعل ہوگئے اور پولس تھانے کے روبرو ڈرائیوروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ اس کے بعد پولس نے ہجوم کو منتشر کرکےآٹو ڈرائیورس اسوسی ایشن کے عہدیداران کے ساتھ تھانے کے اندر گفتگو کی۔ وہاں ایس آئی ریوتی نے وضاحت کی کہ کوگتی معاملے کی تفتیش ہم نہیں کررہے ہیں، اس کے لئے الگ سے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اس پر رکشا ڈرائیورس اسوسی ایشن کے لیڈران نے جواباً کہاکہ آئند ہ تین دنوں میں تفتیش کرنے والے پولس افسران کا نام ظاہر کریں اور متاثرہ رکشا ڈرائیور کے ساتھ انصاف کیا جائے ، اگرایسانہیں ہوتاہے تو اسوسی ایشن کی جانب سے سخت احتجاج کیا جائے گا۔ رکشا مالکان اورٖڈرائیورس اسوسی ایشن کے وینکٹیش نائک، نعیم، سریش نائک، منجونائک، ماستپا نائک وغیرہ موجود تھے۔
گوشت کس نے خریدا تھا؟: پولس ذرائع نے خبر دی ہے کہ کوگتی معاملے کے ایک روز قبل بھٹکل قصائی مارکیٹ سے جس شخص نے گوشت خریدا تھا، اُس نے پوچھ تاچھ کے دوران قبول کیا ہے کہ اُس نے گوشت خریدا تھا اورجس قصائی کی دوکان سے گوشت خریدا تھا اس قصائی نے بھی ملزم کی شناخت کی ہے۔ لیکن گوشت خرید کر اس نے کس کو دیا ابھی یہ معمہ بنا ہواہے۔ شبہ ظاہر کیاجارہا ہے کہ پوچھ تاچھ کئے جانے والے ڈرائیور اُدئیے گونڈا کے ذریعے ہنگامہ مچا کر جانچ کا رخ بدلنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ ان سب کے درمیان اس بات کی بھی اطلاعات ملی ہیں کہ آئندہ چند دنوں میں کلیدی ملزم کو گرفتار کئے جانےکے امکانات ہیں۔
ایس آئی ریوتی کی وضاحت : پورے معاملے کے متعلق پوچھے جانے پر ٹائون پی ایس آئی محترمہ ریوتی نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ پیٹائی اور ہراسانی کرنے کا الزام بالکل غلط اور بے بنیاد ہے ، جرائم کا ارتکاب ہونے کے بعد پولس کو مشتبہ افراد کے ساتھ پوچھ تاچھ کرنا ہی پڑتاہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی کوشش سے جانچ کا رخ بدلناناممکن ہے۔